تاحال کوئی ایسی ویکسین نہیں بن پائی جو کورونا وائرس سے متاثر ہونے سے بچا سکے اور نہ ہی پہلے سے موجود ادویات کی مدد سے اس وبا کے علاج کے کوئی ٹھوس شواہد اب تک سامنے آئے ہیں۔

تاہم دنیا بھر میں چند طبی ماہرین کووِیڈ 19 کے مریضوں پر پہلے سے دستیاب ایسی ادویات کا استعمال کر رہے ہیں جو ان کے خیال میں متاثرہ شخص کے جسم میں وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے اور مریض صحت مند محسوس کرتا ہے۔

ان ادویات میں ’کلوروکوین فاسفیٹ‘ سب سے نمایاں دوا ہے جو بینادی طور پر ملیریا سے بچاؤ اور اس کے علاج کے لیے برسوں سے استعمال کی جا رہی ہے۔

پاکستان میں بھی چند ہسپتالوں میں داخل کورونا متاثرین پر اس دوا کا استعمال سامنے آیا ہے۔

حال ہی میں لاہور کے میو ہسپتال نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ہسپتال میں داخل کووِیڈ 19 کے چند مریضوں پر اس دوا کا استعمال کیا گیا ہے۔ میو ہسپتال کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈاکڑ اسد اسلم نے اردو ٹاؤن کو بتایا کہ ’جن مریضوں پر اس دوا کا استعمال کیا گیا ہے ان میں سے زیادہ تر صحت یاب ہو کر گھر جا چکے ہیں۔‘

بی بی سی

وہ پاکستانی ڈاکٹرز جو چوبیس گھنٹے ڈیوٹی پر ہیں!

جب وینٹی لیٹر کے لیے مریض کا چناؤ کرنا پڑے

کورونا کے بارے میں آپ کے سوال اور ان کے جواب

کیا آپ صحت یابی کے بعد دوبارہ کورونا کا شکار ہو سکتے ہیں؟

بی بی سی

ان کا کہنا تھا کہ ان کے مشاہدے میں اس دوا کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں اور وہ اس کا استعمال جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

تاہم دوسری جانب خوراک اور ادویات کے لیے امریکی نگراں ادارے ایف ڈی اے نے کلوروکوین فاسفیٹ کو کوویڈ 19 کے علاج کے لیے تاحال منظور نہیں کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کا استعمال ’تجرباتی طور پر جاری ہے کیونکہ ہمیں نہیں معلوم کہ یہ کوویڈ 19 کے خلاف مدافعت رکھتی ہے یا نہیں۔‘

تاہم ایف ڈی اے نے ایسے مریضوں میں اس کے ایمرجنسی استعمال کی اجازت دی ہے جو بالغ ہوں، ان کا وزن 50 کلو سے زیادہ ہو، وہ ہسپتال میں داخل ہوں اور انھیں کلینیکل ٹرائلز تک رسائی حاصل نہ ہو یا وہ ایسے کسی ٹرائل کا حصہ بننے کے قابل نہ ہوں۔

دوا کام کر رہی ہے تو کلینیکل ٹرائل کیوں؟

کورونا

پاکستان میں بھی چند طبی محققین کا استدلال ہے کہ باقاعدہ طور پر کوویڈ 19 کے مریضوں پر کلینیکل ٹرائلز کے ذریعے اس کی افادیت کی تصدیق کیے بغیر کلوروکوین فاسفیٹ کا استعمال موزوں نہیں۔

میو ہسپتال کی طرف سے کلوروکوین کے استعمال کے ساتھ ہی لاہور ہی کی یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز یعنی یو ایچ ایس میں طبی محققین کی ایک ٹیم کلوروکوین فاسفیٹ سمیت دیگر دو ادویات کے کوویڈ 19 کے مریضوں پر کلینیکل ٹرائلز کرنے کی تیاری مکمل کر چکی ہے۔

اس ٹیم کے مرکزی تحقیق کار اور یو ایچ ایس کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’کلوروکوین یا پہلے سے موجود دیگر ادویات کے بارے میں ابھی تک معلوم نہیں کہ وہ کوویڈ 19 کے خلاف اثر رکھتی ہیں اور اگر رکھتی ہیں تو کتنا اور کیسے؟‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں ابھی یہ بھی معلوم نہیں کہ ان ادویات کے کوویڈ 19 کے مریضوں پر استعمال کے مضر اثرات کیا ہو سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں بغیر ٹرائل ان کا استعمال کچھ لوگوں کے لیے خطرناک بھی ہو سکتا ہے مثلاً امراضِ قلب کے مریض وغیرہ۔‘

’چینی ماہرین کی رپورٹوں کے بعد استعمال کیا‘

میو ہسپتال کے سی ای او ڈاکٹر اسد اسلم نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ہسپتال نے چین میں کلوروکوین کے کوویڈ 19 کے مریضوں پر استعمال کی رپورٹ کے بعد مقامی مریضوں پر دوا کا استعمال کیا ہے۔

تاہم یو ایچ ایس کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم کے مطابق کلوروکوین کا استعمال بنیادی طور پر ملیریا کے علاج کے لیے منظور کیا گیا تھا اور کوویڈ 19 کے خلاف اس کی افادیت کے دنیا بھر میں کوئی شواہد سامنے نہیں آئے۔

’ہم نے کلینیکل ٹرائلز کے آغاز سے قبل دنیا بھر میں کلوروکوین یا دیگر طریقہ علاج کے حوالے سے ہونے والے تحقیقات کی مکمل جانچ پڑتال کی اور ہمیں کہیں بھی اس کی افادیت کے تاحال کوئی شواہد نہیں ملے۔ ہمارے علم میں چینی ماہرین کی بھی کوئی ایسی رپورٹ نہیں جس میں شواہد بتائے گئے ہوں۔‘

’اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ مریض کلوروکوین سے ٹھیک ہوا؟‘

کورونا

جبکہ میو ہسپتال کے سی ای او ڈاکٹر اسد اسلم کا کہنا ہے کہ انھوں نے جن مریضوں پر کلوروکوین کا استعمال کیا ان میں کوویڈ 19 کی علامات معمولی سے معتدل نوعیت کی تھیں۔

ایسے میں یو ایچ ایس کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا تھا کہ ‘اس بات کے کیا ثبوت تھے کہ مریض کلوروکوین سے ٹھیک ہوا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کوویڈ 19 کے زیادہ تر مریضوں میں بیماری کے علامات ویسے بھی معمولی نوعیت کی ہوتی ہیں اور ایسی علامات سے مریض خود بخود بہتر ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ وہ پاکستان میں کلینیکل ٹرائلز کا آغاز کر رہے ہیں تاکہ کلوروکوین اور دیگر ادویات کی افادیت اور کسی قسم کے ممکنہ مضر اثرات کے بارے میں شواہد اکٹھے کیے جا سکیں اور اس کے استعمال کے حوالے سے باقاعدہ ضابطہ کار بنایا جا سکے۔

کلوروکوین کے علاوہ کن ادویات کے ٹرائل ہو رہے ہیں؟

ڈاکٹر جاوید اکرم نے بتایا کہ کلینیکل ٹرائلز میں وہ کلوروکوین فاسفیٹ کے علاوہ دو مزید ادویات شامل کر رہے ہیں جن میں ٹیمی فلو یا اوسلٹامیویر اور ایزیتھرو مائسین شامل ہیں۔

اوسلٹامیویر بنیادی طور پر اینٹی وائرل دوا ہے جو فلو سے بچاؤ یا اس کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اس دوا کی مدد سے انفلوئینزا کے اے اور بی وائرس کی اقسام کے پھیلاؤ کو کم یا روکا جاتا ہے۔ وائرس کی یہی اقسام فلو کا سبب بنتی ہیں۔

اسی طرح ایزیتھرومائسین ایک اینٹی بائیوٹک دوا ہے پھیپھڑوں کے ورم، نمونیا اور کان، گلے اور پھیپھڑوں کے انفیکشن کے علاج کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

کتنے مریضوں کو کلینیکل ٹرائلز تک رسائی ہو گی؟

کورونا

مرکزی تحقیق کار اور یو ایچ ایس کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا ہے کہ ادویات کے کلینیکل ٹرائلز میں 500 سے زائد مریضوں پر ان ادویات کا تجرباتی استعمال کیا جائے گا۔

’کلینیکل ٹرائلز کے لیے مریضوں کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔ ہم اس میں مونو تھراپی یعنی ایک دوا کا اکیلے استعمال اور کمبینیشن یعنی ایک دوا کے ساتھ دوسری ملا کر دونوں صورتوں میں تجربات کریں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ایسا ممکن ہے کہ ادویات کے استعمال کے نتائج پہلے بھی ملتے رہیں تاہم انھوں نے اس کے لیے تین ماہ کا وقت رکھا ہے تا کہ بین الاقوامی سطح پر رائج اصولوں اور اخلاقی تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔ ڈاکٹر جاوید اکرم کے مطابق وہ اپنی تحقیق کے تنائج انضباطی ادارے کو بھجوا دیں گے جو فیصلہ کرے گی کہ اس کا استعمال کوویڈ 19 کے مریضوں پر ہونا چاہیے یا نہیں۔

کیا کلینیکل ٹرائل اور مریضوں پر استعمال ایک ساتھ چل سکتا ہے؟

ایک طرف کلینکل ٹرائلز ہو رہے ہیں اور دوسری طرف کلوروکوین اور دیگر ادویات کو پہلے ہی سے کورونا کے مریضوں پر استعمال کیا جا رہا ہے جیسا کہ میو ہسپتال لاہور میں ہوا۔ کیا انضباطی ادارے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان یعنی ڈریپ کی منظوری کے بغیر ایسا کیا جا سکتا ہے؟

اس حوالے سے معلوم کرنے کے لیے بی بی سی نے ڈریپ کے سی ای او عاصم رؤف سے رابطہ کیا مگر انھوں نے اس سوال کا جواب نہیں دیا۔

تاہم محمکہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ پنجاب کیپٹن (ر) محمد عثمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کلوروکوین پہلے ہی ڈریپ کے پاس رجسٹرڈ ہے مگر کورونا کے علاج کے لیے اس کی منظوری نہیں دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ایف ڈی اے کی طرف سے اس دوا کی ایمرجنسی منظوری اور سفارش کے بعد ایسا ممکن ہے کہ فزیشن اس کا ٹرائل کریں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ڈریپ ایف ڈی اے کی طرح کوویڈ 19 میں اس کے ایمرجنسی استعمال کو رجسٹر کر سکتا ہے۔ تاہم اس نے تاحال ایسا نہیں کیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here